ہے میرا عشق سمندر کے پانیوں کی طرح – ڈاکٹر یونس فہیم ؔ راؤ

غزل
ہے میرا عشق سمندر کے پانیوں کی طرح
ترا وجود ہے کشتی کے ساحلوں کی طرح
سنہری دھوپ میں اس گلبدن کا اک اک انگ
چمکتی فصل ہے گندم کی بالیوں کی طرح
ترا سراپا مہکتا گلاب گلشن میں!
میں ایک خارِ مغیلاں ہوں جھاڑیوں کی طرح
بس اِک خیال سے رنگین دل کا صحرا ہوا
سمایا آنکھوں میں پھولوں کی ڈالیوں کی طرح
کہ ایک شکل میں سو سو ہیں زاویئے رقصاں
ہے کوئی شیش محل ٹوٹے آئینوں کی طرح
میں اپنے بچوں کو اپنے لہو سے سینچتا ہوں
سو باد و باراں میں رہتا ہوں مالیوں کی طرح
ہمارے حکمراں تقوے سے ہیں مبرّیٰ فہیمؔ
ہیں بھوکے بچوں کے ہاتھوں میں تھالیوں کی طرح

اپنا تبصرہ بھیجیں